ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہنس راج اہیر نے بائیں باز کی انتہا پسندی والے علاقوں میں موبائل رابطے کا جائزہ لیا 

ہنس راج اہیر نے بائیں باز کی انتہا پسندی والے علاقوں میں موبائل رابطے کا جائزہ لیا 

Thu, 26 Apr 2018 11:36:03    S.O. News Service

نئی دہلی25اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)امور داخلہ کے وزیر مملکت جناب ہنس راج گنگا رام اہیر نے آج یہاں ملک کے بائیں کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) سے متاثرہ اضلاع میں موبائل رابطے کے مسئلے کا جائزہ لینے والی اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔ ایل ڈبلیو ای فیس-1 پروجیکٹ کے تحت منظورکیے گئے 2355موبائل ٹاوروں میں سے 2329 موبائل ٹاور نصب کردیئے گئے ہیں۔مہاراشٹر، اڈیشہ اور جھارکھنڈ جیسی ریاستوں میں بینڈ وتھ کے مسئلے پر روشنی ڈالی، جن کی وجہ سے کال ڈراپ اور محدود رابطے کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ ٹیلی کام کمیشن نے مرحلہ-1 کے سٹیلائٹ ٹاوروں کو 2 ایم بی پی ایس تک اپ گریڈ کرنے کو پہلے ہی منظور دے دی تھی جو کہ 89 کروڑ روپے کی لاگت سے وی سیٹ سٹیلائٹ سے منسلک ہیں۔جناب اہیر نے بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل) کو ترجیحی بنیاد پر بائیں باز وکی انتہا پسندی سے متاثرہ 35 اضلاع میں بینڈ وتھ کو اپ گریڈ کرنے کے عمل کو تیز کرنے اور ایک ماہ کے اندر دو ایم بی پی ایس صلاحیت کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بی ایس این ایل موجود موبائل ٹاوروں کا مطالعہ کرائے گی اور جہاں آپٹیکل فائبر ٹاک کیبل (او ایف سی)دستیاب ہیں وہاں مائیکرو ویو پر منتقل ہوں، گرام سبھاؤں کو ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے کہاگیاہے۔ان 35اضلاع میں موبائل کنکٹی وٹی پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ موبائل کنکٹی وٹی جوانوں کو اپنے کنبے کے ساتھ رابطے میں رہنے کے لئے کافی اہم ہے اور اس سے سی اے پی ایف عملہ کے تناؤ میں رہنے کے مسئلے کو حل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔میٹنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایل ڈبلیو ای مرحلہ-2 کے پروجیکٹ کے تحت ٹیلی کام کمیشن نے 7 ہزار 330 کروڑ روپے کی لاگت سے ٹوجی اور 4-جی کنکٹی وٹی والے 4072 موبائل ٹاوروں کومنظوردے دی ہے، اس میں پانچ سال کے لیے آپریشن کی لاگت بھی شامل ہے۔


Share: